زیارہ وے · آپ کا مقدس سفر، ہماری دیکھ بھالWhatsApp +966 58 173 3825

مسجدِ قباء

مسجدِ قباءموجودہ مقام کی اے آئی سے بنائی گئی تصویر — تاریخی تصویر نہیں
مسجد قباء
📍 قباء، مدینہ کے جنوب میںشہر: Madinah
♡ پسندیدہ فہرست میں محفوظ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

تعارف

مسجدِ قباء مسجدِ نبوی سے تقریباً 3 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ اسے عام طور پر اسلام کی پہلی مسجد مانا جاتا ہے، جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت مکہ سے آ کر قباء میں قیام کے دوران رکھی۔

فضیلت

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر ہفتے (سنیچر) پیدل یا سواری پر قباء تشریف لاتے اور دو رکعت پڑھتے (صحیح بخاری 1193-1194)۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: "جو اپنے گھر میں وضو کرے پھر مسجدِ قباء آ کر اس میں نماز پڑھے، اسے عمرے کے برابر ثواب ملے گا” (سنن ابن ماجہ 1412)۔

مختلف آراء

قرآن مجید میں "اس مسجد کی تعریف ہے جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی” (سورۃ التوبہ 9:108)۔ بہت سے مفسرین اسے مسجدِ قباء پر محمول کرتے ہیں، جبکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث اسے مسجدِ نبوی پر محمول کرتی ہے؛ علماء نے وضاحت کی ہے کہ یہ وصف دونوں پر صادق آتا ہے۔

تاریخ

مسجد کئی بار ازسرِنو تعمیر ہوئی۔ موجودہ سفید عمارت اپنے میناروں اور گنبدوں کے ساتھ 1980ء کی دہائی میں ڈیزائن ہوئی، اور 2020ء کی دہائی میں اس کی بڑی توسیع کا اعلان کیا گیا۔

نقشہ

گوگل میپس میں کھولیں

زیارت کی معلومات

پانچوں نمازوں کے لیے کھلی ہے۔ بہت سے زائرین مسجدِ نبوی سے قباء واک وے کے ذریعے پیدل آتے ہیں یا گاڑی/بس سے۔ گھر سے وضو کر کے نکلنا مذکورہ حدیث کے مطابق ہے۔

متعلقہ زیارات

زیارت

سیرتِ نبوی میوزیم

مسجدِ نبوی کے قریب سیرتِ نبوی اور اسلامی تہذیب کی بین الاقوامی نمائش اور میوزیم۔

مسجدِ نبوی کے قریب
تاریخ اور تفصیل پڑھیں →

متعلقہ زیارت ٹورز اور پیکیجز

Visit مسجدِ قباء with ZiyaraWay

ٹرانسپورٹ اور رہنمائی کے ساتھ پرائیویٹ اور گروپ زیارت ٹورز۔

زیارت ٹور بک کریں واٹس ایپ پر پوچھیں

ماخذ اور حوالہ جات

  1. Sahih al-Bukhari 1193 — https://sunnah.com/bukhari:1193
  2. Sahih al-Bukhari 1194 — https://sunnah.com/bukhari:1194
  3. Sunan Ibn Majah 1412 — https://sunnah.com/ibnmajah:1412
  4. Qur'an 9:108 — https://quran.com/9/108

تاریخی روایات میں بعض اوقات اختلاف ہوتا ہے، جہاں ایسا ہے وہاں اس صفحے پر وضاحت کی گئی ہے۔ شرعی مسائل کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔ زیارت کے قواعد اور اوقات سعودی حکام طے کرتے ہیں اور تبدیل ہو سکتے ہیں۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Math Captcha
+ 53 = 61